Monday, October 17, 2011

واپسی سحر کے اعمال

    واپسی سحر کا مطلب یہ ہے کہ جادو گر نے جو عمل کیا ہے، وہ اس کو یا کروانے والے کو واپس کر دیا جائے۔ یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے اور عاملین کے ساتھ ساتھ مریض بھی اس میں بڑی غلطی کرتے ہیں۔ عموماً مریض یہ کہتے ہیں کہ جادو کو واپس کریں تاکہ کرنے والے کو بھی پتہ چلے۔ جب واپسی سحر کا عمل کیا جاتا ہے اور مریض پر سے اثر ختم ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ مخالف کو تو کچھ نہیں ہوا۔ یا ہمارا تو بہت نقصان ہوا لیکن اس کا نہ ہونے کے برابر ہوا۔ اس لئے واپسی سحر کا فلسفہ سمجھنے کی بہت ضرورت ہے۔اس کے لئے ایک مثال دیتا ہوں۔ عامل نے دس اینٹیں(جادو) آپ کے گھر پھنکوائیں۔ اب آپ نے علاج کروایا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ نے وہ اینٹیں ضائع کر دیں۔ فرض کریں کہ علاج سے چھ ضائع ہو گئیں۔ اب اگر واپسی سحر کا عمل کرینگے تو باقی بچی ہوئی چار اینٹیں ہی واپس جادوگر یا کروانے والے پر جائیں گی۔ دس نہیں جائیں گی۔ خوب سمجھ لیں۔
    واپسی سحر کا حقیقی پتہ اس وقت چلتا ہے جب سحر کا اثر بھی مریض پر بہت ہو اور علاج کرنے کی بجائے واپسی سحر شروع کر دی جائے۔ پھر سحر بھی قوت سے واپس جاتا ہے۔رہا یہ معاملہ کہ واپسی سے مخالف کو نقصان ہو گا یا نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ درج بالا مثال کو سامنے رکھتے ہوئے جب واپسی شروع کی تو چار اینٹیں کروانے والے کی طرف پھینکیں۔ اب اس کو لگنا یا نہ لگنا اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے۔چاہے تودشمن کو کوئی بھی نہ لگیں۔ اور اللہ تعالیٰ چاہیں تو چاروں قوت سے لگیں۔ آپ نے ٹانگوں کا نشانہ لیا اور عین وقت پر دشمن بیٹھ گیا اور اینٹیں سر پر لگیں جس کی وجہ سے اس کا بہت نقصان ہو گیا۔ جب کہ اس نے آپ کی ٹانگوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ لیکن چونکہ آپ کی سر پر چوٹ دینے کی نیت نہیں تھی، نیت یہ تھی کہ جتنا مجھے نقصان ہوا ہے، اتنا اس کو ہو، اس لئے شرعاً آپ کی کوئی پکڑ نہیں ہوگی۔
    نیز یہ بات الگ ہے کہ آپ جس عامل سے واپسی کروا رہے ہیں، کیا اس میں اتنی طاقت ہے کہ وہ چار اینٹیں اٹھا کر قوت سے واپس کر سکے۔ یا پھر وہ ضائع کر سکتا ہے، واپسی نہیں کر سکتا۔ یہ بعد کا معاملہ ہے۔
    ایک نصیحت ہے کہ کبھی بھی واپسی اس عامل سے نہ کروائیں جس کو واپسی کرنی نہیں آتی یا اس میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ صحیح واپسی کر سکے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اینٹیں اٹھا کر پھینکے تو تھوڑی دور جا کر ہی گر جائیں۔ یا پھر ایک پہنچے اور باقی نہ پہنچیں۔ لیکن چونکہ واپسی کا عمل کیا گیا ہے تو دوسری طرف سے اب کی بار سخت عمل آئے گا۔ اور مخالف عامل الگ ذاتی بنا پر مزید وار کرے گا۔  اس لئے لڑائی اس وقت کی جائے، جب لڑنے والے ہوں اور سامان اور تدبیر پوری ہو۔ صرف جا کر مخالف کو ایک دو فائر مار کر واپس بھاگ آنے کا انجام کیا ہو سکتاہے، یہ قارئین آپ پر چھوڑتا ہوں۔
    اب واپسی کے چند عملیات درج کئے جاتے ہیں۔

عمل نمبر 1   :مرغ والا عمل
    سفید مرغ کو باوضو ذبح کرکے اسکے تازہ خون سے ایک کا غذ پر ’’جادو برسر جادوگر‘‘ لکھ کر جہاں مریض سویا ہو ،وہاں اس کاغذ کو چھت پراس طرح لٹکا دیں کہ کاغذ مریض کے سینہ کے مقابل رہے۔یہ عمل شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ کا ہے۔ 

عمل نمبر 2   :پلانے والا عمل
    یہ عمل استاذ محترم جناب غلام سرور شباب صاحب کا ہے۔
    اگر کسی پر حاسد دشمن نے سحر یا جادو کر دیا ہو۔ یا کسی نے جادو یا کالے علم کی موٹھ چلائی ہو جس کی وجہ سے مسحور بیمارہو۔ یا جادو کے دیگر بد اثرات مسحور پر ہوں، سب کے لیے یہ عمل خوب کام کرتا ہے۔ مسحور پر سے جادو کے بُرے اثرات ختم ہو جاتے ہیں اور سحر، جادو یا ٹونہ لوٹ کر جادو کرنے والےپر چلا جاتا ہے، منتر یہ ہے:
    ”لوبن دھار۔ بن دھار باندھوں۔ لوہا اَگن سار۔ تاب تجاری کیا کرایا بھیجا بھیجایا باندھوں۔ دَم دَم زندہ شاہ مدار“     اس کا طریقہ یہ ہے کہ مسحور پر صبح و شام سات سات مرتبہ منتر پڑھ کر دم کیا جائے اور پانی پر دم کر کے پلایا بھی جائے۔ کم از کم سات یوم تک اور زیادہ سے زیادہ اکیس یوم تک ۔ ان شاءاللہ تعالیٰ متاثرہ مریض صحت یاب ہو جائے گا اور جادو کرنے والے پر تمام اثرات واپس چلے جائیں گے۔ مگر ضروری ہے کہ کسی بھی چاند یا سورج گرہن میں ایک سو آٹھ مرتبہ پڑھ لیںتاکہ عمل کی قوت قابو میں آ جائے۔

No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.